ابنا: ناسا کے ساتھ تعاون کرنیوالے ایرانی نوجوان ماہر" بابک فردوسی" کے کمانڈ میں "کيوروسٹی" کے مريخ پر اترنے کی مہم انجام پائی اوربتایا جاتا ہے کہ کيوروسٹی" کے مريخ پر اترنے کا مرحلہ سب سے اہم اور مشکل مرحلہ رہا ہے-روبوٹک گاڑي کے بحفاظت مريخ پر اترنے کا تصديقي سگنل اس سرخ سيارے کے گرد گردش کرنے والے ناسا کے اوڈيسي سيارچے نے زمين پر بھيجا- اس روبوٹک گاڑي کے مريخ کي سطح پر اترنے کے عمل کو ”خوف کے سات منٹ“ کا نام ديا گيا تھا اور کامياب لينڈنگ کے بعد ناسا کا خلائي مرکز تاليوں سے گونج اٹھا -واضح رہے "کيوروسٹی" کے مريخ پر اترنے سے خلائي سائنس ميں نئي تاريخ رقم ہوگئي- امريکي خلائي ادارے کي ناسا کي ايک ٹن وزني خلائي گاڑي کيوروسٹي مريخ پر کاميابي سے اترنے کے بعد وہ اب زندگي کے شواہد جمع کرے گي- کل صبح جيسے ہي کيوروسٹي مريخ پر اتري، تو يہ تاريخي لمحہ ديکھ کر ناسا کے سائنسدانوں نے جشن منايا – ناسا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مريخ پر اترنا ہميشہ سے خطرناک رہا ہے، خلائي روبوٹک گاڑي 21ہزار ميل في گھنٹہ کي رفتار سے مريخ پر اتري- کيوروسٹي نے مريخ کي سطح پر اترنے کے فوراً بعد دو تصاوير بھي جاري کرديں- ناسا کے اس مشن پر ڈھائي ارب ڈالر کي لاگت آئي ہے- ناسا کے مطابق کيوروسٹي ميں موجود پلوٹونيم بيٹري کي مدد سے دس سال تک کام کر سکتي ہے- کيوروسٹي آٹھ ما ہ کے سفر کے بعد مريخ پر اتري ہے اورآئندہ 2 سال تک مريخ پر رہے گي - اس سے پہلے مریخ پر بھیجے گئے دو تہائی مشن ناکامی کا شکار ہو گئے تھےاورسرخ سیارے کے بہت سے راز ابھی تک پردہ میں ہیں۔
.....
/169